ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: انتخابات کے لئے ٹرانسفر ہوکر آنے والے افسران بھی رشوت وصول کرنے میں مصروف

کاروار: انتخابات کے لئے ٹرانسفر ہوکر آنے والے افسران بھی رشوت وصول کرنے میں مصروف

Wed, 02 May 2018 23:48:34    S.O. News Service

کاروار 2؍مئی (ایس او نیوز) پوری ریاست میں ہر جگہ انتخابی بخار تیز ہوگیا ہے او رافسران ضابطۂ اخلاق لاگو کرنے کے سلسلے میں پوری طرح سرگرمی دکھا رہے ہیں اور جہاں کہیں بھی غیر قانونی حرکت سامنے آتی ہے وہاں پر قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔

لیکن اسی ضابطۂ اخلاق کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ضلع شمالی کینرا میں یہاں وہاں ریت کی لاریوں کو روکنے اور ان سے رشوت وصول کرنے کے الزامات بھی سننے میں آ رہے ہیں۔اس کے علاوہ خالص انتخابی امور کی انجام دہی کے لئے دوسرے اضلاع سے ٹرانسفر ہوکر یہاں آنے والے بعض افسران بھی سابقہ افسران کی طرح پتھروں اور ریت کی لاریوں سے رشوت وصول کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ ضلع شمالی کینرا میں تین سال سے زیادہ خدمات انجام دینے والے افسران کو دوسرے اضلاع میں ٹرانسفر کردیا گیا ہے اور ان کی جگہ دوسرے ضلعوں سے افسران کو تعینات کردیا گیا ہے۔لیکن ان افسران کے بیچ ایک خفیہ سمجھوتہ ہونے کی باتیں سننے میں آرہی ہیں کہ انتخابات کے بعد یہ لوگ واپس اپنے سابقہ مقام پرہی تعینات ہونگے۔چونکہ انتخابات کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد نئی حکومت اقتدار سنبھالے گی اور اس کے بعد افسروں کے تبادلوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجائے گا۔ اس پہلو کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ افسران ابھی سے تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں کہ ان کے تبادلے سابقہ مقامات پر ہی کیے جائیں۔ اس دوران جتنے دن بھی الیکشن کی وجہ سے بیرونی ضلع کے افسروں کو ضلع شمالی کینرا میں رہنے کا موقع ملتا ہے ، بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے مصداق پورا پورا فائدہ اٹھانے کی لہر چل پڑی ہے۔اور پتھر اور ریت کے کاروباریوں سے معمول کے مطابق وصولی کاکام چل رہا ہے۔

کہاجاتا ہے کہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کو نافذکرنے کے لئے بہت سارے مقامات پر چیک پوسٹ لگائے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض راستوں پر ریت کی لاریاں دوڑتی ہیں اوران لاریوں کو روک کر محکمہ پولیس کے افسران خاصا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔خبر یہ بھی ہے کہ سابقہ افسران نے اپنی جگہ پرنئے آنے والے افسران کو کس سے کس معاملے میں کتنی رشوت وصول کرنی یہ تفصیلات بتلادی ہیں تاکہ یہ سلسلہ کہیں بند نہ ہوجائے اورایک دو مہینے کے بعد ان کے واپس آنے پر یہ معمول یونہی چلتا رہے۔یہی وجہ ہے کہ انتخابی قوانین کے لاگو ہونے کے بعد بھی رشوت خوری کا جو سلسلہ پہلے سے چل رہا تھا وہ حسب معمول اب بھی چل رہا ہے۔


Share: